Pages

کیا مقعد کے راستے جنسی ملاپ کرنا محفوظ ہوتا ہے؟

        peche dalna mana he

بیوی سے مباشرت صرف فرج  vagina میں ہی کی جاتی ہیں اور اسلام صرف اسی چیز کی اجازت دیتا ہے مقعد Anus میں بیوی کے ساتھ مباشرت کرنا قطعا طور پر حرام اور گناہ کا کام ہے- اس سے مرد کو بہت سی جنسی بیماریاں لاحق ہونے کا خطرہ ہوتا ہے اور بیوی کی صحت بھی بگڑنے کا اندیشہ ہوتا ہے مغرب میں تیس فیصد مرد کبھی نہ کبھی اپنی بیوی سے مقعد میں مباشرت کر لیتے ہیں- اور یاد رہے کے مباشرت کے بعد دونوں میاں بیوی پر غسل فرض ہو جاتا ہے- چاہے منی خارج ہو یا نہ ہو-

 شادی بھی کسی عورت کے ساتھ ہی ہونی چاہیے مغرب میں تو مرد کی مرد کے ساتھ شادی کا رواج بھی چل نکلا ہے اور وہاں یہ ایک عام بات ہے لیکن اسلام میں اس کی بلکل بھی اجازت نہیں ہے اور یہ بہت ہی حرام اور گناہ کا کام ہے بد قسمتی سے ہمارے ہاں بھی کچھ ایسے لوگ پاے جاتے ہیں جو مرد کے ساتھ مباشرت کرنے کو عورت کی نسبت زیادہ اہمیت دیتے ہیں- 

صحت سے وابستہ خطرات کی وجہ سے ،مقعد کے راستے جنسی ملاپ کرنے کی طبّی لحاظ سے حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ مقعد کے راستے جنسی ملاپ کرنے سے مختلف اقسام کے انفکشنز ،بشمول جنسی انفکشنز ،کا ایک ساتھی سے دوسرے ساتھی کو منتقل ہونے کا اِمکان بہت بڑھ جاتاہے۔اِس کے علاوہ ، خاتون ساتھی میں، اِس کی وجہ سے جرّاحی کے امراض مثلأٔ پاخانے کی بے قاعدگی،سوزاک مقعد کا پھٹ جانا  وغیرہ بھی لاحق ہوسکتے ہیں۔

 

No comments:

Post a Comment