Pages

میری ماہواری بے قاعدگی سے کیوں آتی ہے ؟ کیا میں اس صورت میں بھی حاملہ ہو سکتی ہُوں؟

        جب ماہواری کا دورانیہ5دِن سے کم یا 9دِن سے زیادہ ہو تو اِسے بے قاعدہ ماہواری کہا جاتا ہے۔اور اگر ماہواری کے دورانیوں میں ماہ بہ ماہ کافی دنوں کا فرق آتا ہو ،یہ فرق نارمل حد کے اندر بھی ہو ،تو  اِسے بے قاعدہ ماہواری کہا جاتا ہے ۔

        ماہواری میں بے قاعدگی کے بعض اسباب میں ،بچّہ دانی کی بناوٹ میں خرابیاں، ذہنی تناؤ، ہارمونز کا عدم توازن، انفکشنز، ادویات (مثلأٔ مانع حمل ادویات)،حمل اور اسقاط حمل کے مسائل اور دِیگر طبّی وجوہات وغیرہ شامل ہیں۔

        ماہواری میں بے قاعدگی کے سبب اور حاملہ ہونے کے اِ مکانات کے درمیان کا فی زیادہ تعلق ہوتا ہے ۔بعض اوقات، بے قاعدگی سے آنے والی ماہواری، متعلقہ عورت میں انڈے خارج نہ ہونے کی علامت ہوتی ہے۔ بیضہ دانیوں سے انڈے خارج نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ عورت حاملہ نہیں ہوسکتی۔

        بے قاعدگی سے آنے والی ماہواری ،بیضہ دانیوں میں گلٹیاں (polycystic ovarian syndrome, PCOS) ہونے کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں بھی اگر بیضہ دانیوں سے انڈے خارج ہورہے ہوں تو متعلقہ عورت حاملہ ہوسکتی ہے ۔ بعض اوقات ،بے قاعدگی سے آنے والی ماہواری، ہارمونز کے لطیف عدم توازن کی علامت ہوتی ہے تاہم اِس صورت کے باوجود ماہ بہ ماہ بیضہ دانیوں سے انڈوں کا اخراج ہورہا ہوتا ہے ۔صِرف یہ کہ انڈوں کے اخراج کے دِنوں میں کافی تبدیلی آتی ہے۔انڈے خارج ہونے کی صورت میں ،بارآوری کی کسی دوا کے بغیر بھی،متعلقہ عورت حاملہ ہو سکتی ہے۔

        بے قاعدگی سے آنے والی ماہواری کا ایک اور سبب۔ ۔ ۔ وزن میں زیادتی یا وزن کی کمی بھی ماہواری کے دورانیوں میں خلل ڈال سکتی ہے۔بہت زیادہ ورزش کرنا اور بہت زیادہ ڈائٹنگ کرنا بھی ،ماہواری میں بے قاعدگی پیدا کرنے کے اہم اسباب میں شامل ہیں۔

        بے قاعدہ ماہواری کی صورت میں حاملہ ہونازیادہ مشکل ہوجاتاہے ،تاہم اِس کے معنیٰ یہ نہیں کہ آپ لازمی طور پر حاملہ نہیں ہو سکتیں۔بے قاعدہ ماہواری ہونے کی صورت آپ کافی جسمانی عوارض کا شکار ہو سکتی ہیں۔خواہ آپ حاملہ ہونے کی کوشش نہ بھی کر رہی ہوں تب بھی اپنا معائنہ کروالینا بہتر ہوتا ہے

No comments:

Post a Comment