khud lazati ka nuksan
خود لذّتی ایک عام روّیہ ہے مگر 25 سال کی عمر سے قبل اس کا بہت نقصان ہے عضو پتلا اور لمبائی رک جاتی ہے۔ اس عمل کو تقریبأٔ ہر مرد اور عورت اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی اختیار کرتے ہیں۔خود لذّتی کے عمل سے طبّی لحاظ سے کافی ذیلی اثرات واقع ہوتے ہیں، تاہم یہ عمل اُس صورت یہ مسئلہ بن سکتا ہے جب: اس کی وجہ سے اپنے ساتھی/بیوی کے ساتھ کی جانے والی جنسی سرگرماں کم کر دیں ؛ شادی شدہ حضرات خود لذتی کیو جہ سے سرعت انزال کا شکار ہو جاتے ہیں یہ عمل روزمرّہ کی زندگی اور سرگرمیوں میں خلل کا سبب بننے لگتا ہے۔ ۔
جب کوئی فرد کثرت سے خود لذّتی کا عمل کرتا ہے تو اُس کے وہ خلیات مسلسل تحریک پاتے ہیں جو دِماغ میں ایسے کیمیائی اجزاء اور ہارمونز کو پیدا کرتے ہیں جو جنسی ردِّعمل کے دورانئے کے مختلف مراحل کے لئے ذمّہ دار ہوتے ہیں۔اِ س طرح اِن خلیات کا نہ صِرف اپنا عمل تیز ہوجاتا ہے بلکہ اِن کی تعداد میں بھی اِضافہ ہوجاتا ہے ،لہٰذا جب ایسا فرد خود لذّتی کا عمل کرتا ہے تو اُس کے جسم میں ایسے کیمیائی اجزاء معمول سے زیادہ بنتے ہیں اور اِن کے اثرات بھی معمول سے زیادہ ہوتے ہیں۔
یہ کیمیائی اجزاء ہمارے جسم موجود ایک قِسم کے اعصابی نظام کو کنٹرول کرتے ہیں ۔یہ اعصابی نظام parasympathetic nervous system کہلاتا ہے۔یہ اعصابی نظام عضو تناسل میں تناؤ پیدا کرنے کا ذمّہ دار ہوتا ہے۔اِن ہارمونز کی کثرت سے ہونے والی افزائش سے parasympathetic nervous system بھی متاثرہوتا ہے جس کے نتیجے میں مَردوں میں عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونے کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
تو یہ بات کس طرح طے ہوسکتی کہ خود لذّتی کا عمل کثرت سے کیا جا رہا ہے؟اِس بات کا جواب آسان جواب یہ ہے کہ جب متعلقہ فرد یہ محسوس کرے کہ وہ خود لذّتی کے عمل کا عادی ہوگیا ہے اور وہ یہ عمل جنسی لطف کے لئے نہیں بلکہ ذہنی اور جسمانی سکون کے لئے کر رہا ہے ۔یہی وہ وقت یا مرحلہ ہوتا ہے جب متعلقہ فرد کو خود کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہوتی ہے
اس کی جائز ہونے پر مختلف رائے ہیں۔ یہ شیعہ عشریہ فرقے میں حرام ہے۔ یہ مالکی فرقے کے مطابق حرم سمجھا جاتا ہےابن حزم رحمہ اللہ اور حنابلہ مذہب کے مطابق، یہ صرف دو شرائط کے تحت (جائز) حلال ہے: سب سے پہلے، زنا یا زنا کا ارتکاب کا خوف دوسرا شادی کرنے کے لئے اسباب نہ ہونا قرآن خود مشت زنی کے موضوع پر خاموش ہے تاہم بہت سے علماء کرام کا دعوی ہے کہ بعض آیات کے حوالے سے کہا گیا ہےکہ حرام ہےاور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیویوں سے یا (کنیزوں سے) جو ان کی مِلک ہوتی ہیں کہ (ان سے) مباشرت کرنے سے انہیں ملامت نہیں اور جو ان کے سوا اوروں کے طالب ہوں وہ (خدا کی مقرر کی ہوئی حد سے) نکل جانے والے ہیں
سورة المؤمنون
اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے کہ (ان کے پاس جانے پر) انہیں کچھ ملامت نہیں اور جو لوگ ان کے سوا اور کے خواستگار ہوں وہ حد سے نکل جانے والے ہیں
سورة المعارج
اور جن کو بیاہ کا مقدور نہ ہو وہ پاک دامنی کو اختیار کئے رہیں یہاں تک کہ خدا ان کو اپنے فضل سے غنی کردے۔ اور جو غلام تم سے مکاتبت چاہیں اگر تم ان میں (صلاحیت اور) نیکی پاؤ تو ان سے مکاتبت کرلو۔ اور خدا نے جو مال تم کو بخشا ہے اس میں سے ان کو بھی دو۔ اور اپنی لونڈیوں کو اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں تو (بےشرمی سے) دنیاوی زندگی کے فوائد حاصل کرنے کے لئے بدکاری پر مجبور نہ کرنا۔ اور جو ان کو مجبور کرے گا تو ان (بیچاریوں) کے مجبور کئے جانے کے بعد خدا بخشنے والا مہربان ہےسورة النور
No comments:
Post a Comment